پنجاب میں ٹریفک پولیس نے جرمانوں میں حیران کن اضافہ کردیا
پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں ٹریفک قوانین کے نفاذ کو سخت بنانے کا جو فیصلہ کیا ہے، وہ صرف جرمانوں میں اضافے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مکمل پالیسی تبدیلی ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد وہی پرانا، مگر بہت اہم ہدف ہے: شہریوں کو محفوظ بنانا، سڑکوں پر نظم قائم کرنا اور روز افزوں حادثات کو کم کرنا۔
نئے قوانین اور بھاری جرمانوں کے ساتھ ساتھ ایک مکمل پوائنٹ سسٹم بھی نافذ کیا جا رہا ہے جس کے تحت مسلسل خلاف ورزی کرنے والوں کے لائسنس معطل کر دیے جائیں گے۔ اس تبدیلی کا آغاز یکم دسمبر 2025 سے ہوا
اور پہلے ہی دن صوبے بھر میں ہزاروں کی تعداد میں کارروائیاں کی گئیں جن کے اعداد و شمار نے اس قانون کی سنجیدگی اچھی طرح واضح کر دی۔
یہ مضمون میں انہی اقدامات، جرمانوں اور حکومتی فیصلوں کی تفصیل ہے، تاکہ عام شہری بھی سمجھ سکیں کہ سڑک پر ان کی ذرا سی بے احتیاطی کس طرح مہنگی پڑ سکتی ہے
کونسی غلطی پر کتنا جرمانہ ہو گا تمام جرمانوں کی تفصیل
نمبر ایک : موٹر سائیکل پر دو سے زیادہ افراد کا سفر
پاکستان میں عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ ایک ہی موٹر سائیکل پر تین، کبھی کبھی چار افراد بھی بیٹھ کر سفر کرتے ہیں۔ یہ عادت بہت سے حادثات کی بنیاد بن جاتی ہے۔ نئے قانون کے مطابق اس خلاف ورزی پر مکمل سختی کی جائے گی اور دو ہزار روپے جرمانہ لازمی ہو گا۔
بظاہر یہ ایک چھوٹی بات لگتی ہے، مگر توازن بگڑنے سے ہونے والے حادثات کی فہرست کئی سالوں سے طویل ہے۔ حکومت اسی رویے کو بدلنے کی کوشش کر رہی ہے، تاکہ خاندان اپنے بچوں اور خود کو غیر ضروری خطرے میں نہ ڈالیں۔
نمبر دو : ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کا استعمال
سڑک پر سب سے بڑی غفلت موبائل فون کا استعمال ہے۔ نئے قانون میں اس خلاف ورزی کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے سخت جرمانے مقرر کیے گئے ہیں۔
موٹر سائیکل پر موبائل استعمال کرنے پر دوہزار روپے جبکہ کار یا دیگر چار پہیوں والی گاڑی پر یہی خلاف ورزی تین ہزار روپے کا جرمانہ ہو گا
یہ فیصلہ اس حقیقت کے تحت لیا گیا ہے کہ موبائل فون ڈرائیور کی توجہ کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ چند سیکنڈ کی نظریں اسکرین پر دوڑتی ہیں اور نتیجہ حادثے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
نمبر تین : بغیر فٹنس سرٹیفیکیٹ یا روٹ پرمٹ گاڑی چلانا
کمرشل گاڑیاں جب بغیر فٹنس سرٹیفیکیٹ سڑک پر چلتی ہیں تو یہ صرف قانون شکنی نہیں بلکہ درجنوں جانوں کا خطرہ ہوتی ہیں۔ ایسے تمام رکشے، بسیں، ویگنیں اور ٹرک اب سخت پکڑ میں ہوں گے اور پندرہ ہزار روپے کا بھاری جرمانہ ان کا منتظر ہے۔
یہ اقدام اس لیے ضروری تھا کہ روزانہ ہزاروں گاڑیاں غیر معیاری بریک، کمزور سیٹوں، خراب ٹائروں یا دھواں چھوڑتے انجن کے ساتھ سڑکوں پر دوڑتی ہیں اور بہت سے حادثات کی وجہ بنتی ہیں۔
نمبر چار : کم عمر ڈرائیور
کم عمر نوجوانوں کا گاڑی چلانا ایک ایسا مسئلہ ہے جو گھروں سے شروع ہوتا ہے۔ والدین بچوں کو موٹر سائیکل یا کار تھما دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید یہ کوئی معمولی بات ہے۔ مگر یہ معمولی حرکت بہت بڑے نقصان کی وجہ بن سکتی ہے۔
نئے قانون کے مطابق کم عمر ڈرائیور کے لیے موٹر سائیکل پردو ہزار روپے اور کار پرپانچ ہزار روپے جرمانہ ہو گا۔
یہ فیصلہ صرف نوجوانوں کو روکنے کے لیے نہیں بلکہ والدین کو بھی ذمہ داری کا احساس دلانے کے لیے ضروری تھا۔
نمبر پانچ : ٹریفک سگنل توڑنے، غفلت سے گاڑی چلانے اور دیگر سنگین غلطیوں پر بھاری جرمانہ
حکومت نے اس بار ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی پر کوئی رعایت نہیں رکھی۔ سگنل توڑنا ایک سنگین جرم کے طور پر لیا جا رہا ہے۔
موٹر سائیکل کے لیے دو ہزارروپے
کار کے لیے پانچ ہزار اور کمرشل گاڑیوں کے لیے پندرہ ہزار روپے جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔
سگنل توڑنا صرف ایک قانون کی خلاف ورزی نہیں بلکہ یہ براہ راست انسانی جانوں کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔
غفلت سے یا لاپرواہی سے گاڑی چلانا بھی اسی فہرست میں شامل ہے۔ تیز رفتاری، اچانک لین بدلنا، ہارن کا بے جا استعمال اور موبائل فون کی جانب دیکھتے ہوئے ڈرائیونگ جیسے عوامل حادثات کو جنم دیتے ہیں۔
اس خلاف ورزی پر موٹر سائیکل کے لیے تین ہزار اور کار کے لیے پانچ ہزار روپے جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔
نمبر چھ : دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی
فضائی آلودگی پاکستان کے بڑے شہروں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو اب سخت سزا کا سامنا کرنا ہو گا۔
موٹر سائیکل کے لیے دو ہزار روپے، کار کے لیے تین ہزار روپے اور کمرشل گاڑیوں کے لیے پندرہ ہزار روپے جرمانہ رکھا گیا ہے۔
یہ قدم صرف ٹریفک قوانین کا حصہ نہیں بلکہ ماحولیات کے تحفظ کی طرف بھی اہم پیش رفت ہے۔
پنجاب ٹریفک پولیس کی روزانہ کی کارروائیاں ۔ نیا قانون کتنا مؤثر ثابت ہوا ہے اور کتنے جرمانے عائد کیے گے ہیں
نئے قوانین کے نفاذ کی صرف ایک دن کی کارروائی نے واضح کر دیا کہ حکومت اس معاملے میں سنجیدہ ہے۔
یکم دسمبر 2025 کو پورے صوبے میں جو کارروائی ہوئی، وہ اپنی مثال آپ ہے۔
ہیلمٹ کی خلاف ورزی پر
25986 چالان
کیے گئے اور تقریباً پانچ کروڑ روپے کے قریب جرمانہ وصول ہوا۔ دس ہزار سے زائد موٹر سائیکلیں بند کی گئیں اور
409
مقدمات درج ہوئے اور سینکڑوں افراد گرفتار ہوئے۔
اسی طرح ون وے کی خلاف ورزی پر
2814
چالان ہوئے
38 لاکھ
سے زائد جرمانہ وصول کیا گیا اور ایک ہزار سے زیادہ گاڑیاں بند کی گئیں۔
1922
مقدمات درج ہوئے اور تقریباً اتنے ہی افراد گرفتار بھی کیے گئے۔
بس کی چھت پر بیٹھ کر سفر کرنے یا پیچھے لٹکنے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی ہوئی، جس میں 854 چالان، 6 لاکھ سے زائد جرمانہ اور سینکڑوں گرفتاریاں شامل ہیں۔
حادثات کے کیسز بھی رپورٹ ہوئے جن میں مقدمات درج کیے گئے اور قانون کے مطابق کارروائی کی گئی۔
غیر محفوظ گاڑیوں، دھواں چھوڑنے والے ٹرکوں، بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں، کم عمر ڈرائیوروں اور بغیر لائسنس گاڑی چلانے والوں کے خلاف بھی ہزاروں کی تعداد میں چالان کیے گئے۔ صرف بغیر لائسنس گاڑی چلانے کے 9830 کیس سامنے آئے جن میں چالیس لاکھ سے زائد جرمانہ اور دو ہزار سے زیادہ گاڑیاں بند کی گئیں۔
اسی دن مجموعی طور پر 69854 چالان ہوئے، ان پر تقریباً 80 کروڑ روپے کے قریب جرمانہ وصول کیا گیا۔ اکیس ہزار گاڑیاں ضبط ہوئیں، بارہ ہزار ایف آئی آرز درج ہوئیں اور بارہ ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔
یہ تمام اعداد و شمار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ نیا قانون صرف کاغذی اعلان نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت ہے۔
پوائنٹ سسٹم ۔ ڈائیونگ لائسنس معطل
پنجاب نے پوائنٹ سسٹم متعارف کروا کر ٹریفک قوانین کو جدید شکل دے دی ہے۔ ہر خلاف ورزی پر پوائنٹ کاٹا جائے گا۔ اگر کوئی ڈرائیور حد سے زیادہ پوائنٹس ضائع کر دے تو اس کا لائسنس معطل کر دیا جائے گا۔
یہ نظام انہیں لوگوں کو سدھارنے کے لیے بنایا گیا ہے جو مسلسل ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو معمول سمجھتے ہیں۔