لائیو سٹاک اثاثہ جات کی منتقلی کے دوسرے مرحلے کا آغاز
پاکستان کی دیہی زندگی ہمیشہ سے محنت، قربانی، اور سادگی کی علامت رہی ہے۔ خاص طور پر جنوبی پنجاب کے گاؤں جہاں زندگی کا بیشتر انحصار زراعت اور مویشیوں پر ہے۔ مگر ان دیہی علاقوں میں خواتین کی محنت اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے۔ وہ دن رات کھیتوں میں کام کرتی ہیں، دودھ نکالتی ہیں، گائے بھینسوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں، مگر مالی طور پر مستحکم نہیں ہو پاتیں۔
ایسے میں حکومتِ پنجاب کی جانب سے شروع کیا گیا “دیہی خواتین کے لیے لائیوسٹاک پروگرام” ایک امید کی کرن بن کر سامنے آیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں یہ منصوبہ خاص طور پر جنوبی پنجاب کی غریب اور مستحق خواتین کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ وہ اپنی محنت کے بدلے میں بہتر معاشی مستقبل حاصل کر سکیں۔
لائیو سٹاک اثاثہ جات پروگرام کا بنیادی مقصد
اس پروگرام کا بنیادی مقصد دیہی خواتین کو مالی طور پر خود مختار بنانا ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جنوبی پنجاب کے گیارہ ہزار مستحق خاندانوں کی خواتین کو صحت مند گائے یا بھینس فراہم کی جائے گی تاکہ وہ دودھ کی فروخت اور مویشی پالنے کے ذریعے اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکیں۔
یہ صرف امداد نہیں بلکہ خود روزگاری کا دروازہ کھولنے کی ایک سوچ ہے۔ حکومت کی طرف سے دو ارب روپے کی خطیر رقم اس منصوبے کے لیے مختص کی گئی ہے جو کہ دیہی معیشت میں انقلاب لا سکتی ہے۔
لائیو سٹاک اثاثہ جات پہلے مرحلے کی کامیابی
پروگرام کے پہلے مرحلے میں تقریباً 4870 صحت مند بھینسیں اور گائیں غریب خواتین میں تقسیم کی گئیں۔ ان خواتین کو نہ صرف مویشی دیے گئے بلکہ انہیں ان جانوروں کی دیکھ بھال، خوراک، اور بیماریوں سے بچاؤ کے متعلق تربیت بھی فراہم کی گئی۔
یہ وہ پہلو ہے جو اکثر حکومتی اسکیموں میں نظر انداز کیا جاتا ہے — یعنی صرف امداد نہیں بلکہ علم، تربیت، اور مسلسل مدد۔ یہی وجہ ہے کہ اس پروگرام کو عوامی سطح پر بے حد پذیرائی ملی۔
دوسرے مرحلے کا آغاز
اب یہ پروگرام دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ 25 نومبر سے اگلے مرحلے میں مزید اضلاع کی خواتین کو رجسٹر کیا جا رہا ہے۔
ان اضلاع میں بہاولنگر،
مظفر گڑھ
لودھراں
بہاولپور
خانیوال، لیہ
راجن پور
رحیم یار خان
ساہیوال
وہاڑی، اور دیگر علاقے شامل ہیں۔
یہ تمام علاقے جنوبی پنجاب کے وہ حصے ہیں جہاں زراعت اور مویشی پالنا بنیادی روزگار ہے مگر خواتین کے لیے مالی وسائل کی شدید کمی رہی ہے۔
لائیو سٹاک اثاثہ جات خواتین کے لیے مواقع
ایک عام دیہی خاتون جو روز صبح جلدی اٹھتی ہے، مویشیوں کو چارہ ڈالتی ہے، دودھ نکالتی ہے، اور گھر کے کاموں میں مصروف رہتی ہے — اس پروگرام کے ذریعے اب وہ اپنی محنت کو ایک چھوٹے کاروبار میں بدل سکتی ہے۔
دودھ اور اس سے بننے والی مصنوعات جیسے دہی، مکھن، اور دیسی گھی کی فروخت سے خواتین نہ صرف اپنی آمدنی بڑھا سکتی ہیں بلکہ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے بھی سرمایہ جمع کر سکتی ہیں۔
لائیو سٹاک اثاثہ جات پروگرام میں شمولیت کے معیار
حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ صرف اصل مستحق خواتین ہی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
پروگرام میں شمولیت کے لیے درج ذیل معیار مقرر کیے گئے ہیں:
نمبر ایک : خاتون جنوبی پنجاب کے کسی مستحق علاقے (تحصیل یا ضلع) سے تعلق رکھتی ہو۔
نمبر دو : خاندان کی ماہانہ آمدنی پانچ ہزار روپے سے کم ہو۔
نمبر دو : خاتون کے پاس گاؤں میں مویشی رکھنے کی جگہ موجود ہو۔
نمبر تین : شناختی کارڈ اور رجسٹریشن فارم کے ذریعے تصدیق لازمی ہو۔
نمبر چار : لائیو سٹاک اثاثہ جات جدید طریقہ کار
حکومت پنجاب نے اس پروگرام کے نفاذ میں ڈیجیٹل طریقہ کار اپنایا ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔
لائیو سٹاک اثاثہ جات کی منتقلی پروگرام میں اپلائی کرنے کا مکمل طریقہ
سب سے پہلے پلے اسٹور سے ایپلیکیشن
asset transfer to rural women
ڈاون لوڈ کریں
یا “محکمہ لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ” کے دفتر کے ذریعے خواتین خود کو رجسٹر کروا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہیلپ لائن نمبر
080009211
پر رابطہ کر کے بھی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
یہ سسٹم اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ ہر منتخب خاتون کو اس کا حق براہِ راست ملے — بغیر کسی سفارش یا سیاسی دباؤ کے۔
اس پروگرام کے معیشت پر اچھے اثرات ہوں گے
اگر یہ پروگرام کامیابی سے جاری رہا تو دیہی معیشت میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔ جب خواتین اپنے مویشیوں سے ماہانہ آمدنی حاصل کریں گی تو نہ صرف گھریلو حالات بہتر ہوں گے بلکہ دیہات میں دودھ اور دیگر اشیاء کی پیداوار بھی بڑھے گی۔
یہی نہیں، جب عورتیں مالی طور پر مضبوط ہوں گی تو وہ اپنے بچوں کی تعلیم، صحت، اور بہتر رہائش پر بھی توجہ دے سکیں گی۔ ایک مضبوط عورت، دراصل ایک مضبوط خاندان اور مضبوط قوم کی بنیاد ہے۔
اس پروگرام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے دیہی عورت کی محنت کو تسلیم کیا ہے۔ وہ عورت جو روزانہ دھوپ میں گائے کو چارہ ڈالتی ہے، پانی لاتی ہے، بیمار جانور کی دیکھ بھال کرتی ہے — اب وہ صرف “گھر کی مددگار” نہیں بلکہ “گھر کی کفیل” بھی بن سکتی ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ نگرانی یہ اقدام صرف ایک پروگرام نہیں بلکہ ایک سماجی انقلاب کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ دیہی خواتین کو بااختیار بنانا، انہیں خود روزگار کے مواقع دینا، اور ان کی محنت کو عزت دینا — یہی وہ بنیادیں ہیں جن پر ترقی یافتہ معاشرہ تعمیر ہوتا ہے۔
اگر حکومت، عوام، اور مقامی ادارے مل کر اس منصوبے کو جاری رکھیں تو چند سالوں میں جنوبی پنجاب کی تصویر بدل سکتی ہے۔ یہ پروگرام اس بات کی جیتی جاگتی مثال ہے کہ جب نیت خالص ہو تو کوئی بھی خواب حقیقت بن سکتا ہے۔