ہائی ٹیک ایگریکلچرل مشینری پروگرام2025

ہائی ٹیک ایگریکلچرل مشینری پروگرام2025

پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں بیشتر آبادی کا روزگار زمین اور کھیتوں سے جڑا ہوا ہے۔ صدیوں سے ہمارے کسان ہاتھوں اور روایتی اوزاروں سے زمین کاشت کرتے آئے ہیں، لیکن اب وقت بدل چکا ہے۔ دنیا جدید مشینوں، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور آٹومیشن کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں پنجاب حکومت نے ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے جس نے زراعت کے میدان میں نئی روح پھونک دی ہے۔ یہ قدم ہے “ہائی ٹیک ایگریکلچرل مشینری پروگرام” کا آغاز، جسے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے شروع کیا ہے۔

اس پروگرام کا بنیادی مقصد کسانوں کو جدید زرعی مشینوں تک آسان رسائی فراہم کرنا ہے تاکہ وہ کم وقت میں زیادہ پیداوار حاصل کر سکیں۔ پرانے طریقہ کاشت میں محنت زیادہ اور پیداوار کم ہوتی تھی۔ بیج بونا، اسپرے کرنا یا فصل کاٹنا — ہر کام وقت لیتا تھا۔ لیکن اب جدید ٹریکٹرز، ہارویسٹرز، بیلر اور پلانٹر مشینوں کی مدد سے یہ تمام مراحل آسان، تیز اور مؤثر ہو گئے ہیں۔

پروگرام کے تحت کسان، سروس فراہم کرنے والے اور کاروباری حضرات بینک آف پنجاب کے ذریعے بلا سود قرض حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ قرض 3 کروڑ روپے تک دیا جا سکتا ہے تاکہ کوئی بھی چھوٹا یا بڑا کسان اپنی ضرورت کے مطابق مشین خرید سکے۔

ہائی ٹیک ایگریکلچرل مشینری پروگرام کےلئے اہلیت کا معیار

پنجاب حکومت کے ہائی ٹیک زرعی مشینری پروگرام سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے چند بنیادی شرائط مقرر کی گئی ہیں۔ ان شرائط کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ امداد ان ہی افراد تک پہنچے جو واقعی زراعت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور اس سہولت کے مستحق ہیں۔

نمبر ایک : درخواست دہندہ پنجاب صوبے کا مستقل رہائشی ہونا چاہیے۔

نمبر دو : اگر درخواست گزار کاروباری یا انٹرپرینیور ہے تو اس کے پاس درست این ٹی این نمبر موجود ہونا ضروری ہے۔

نمبر تین : اگر درخواست دہندہ کسان ہے تو اس کے پاس کم از کم پانچ ایکڑ زمین کی ملکیت ہونی چاہیے۔

نمبر چار : سروس پرووائیڈر کے لیے لازمی ہے کہ وہ محکمہ زراعت (فیلڈ وِنگ)، حکومت پنجاب کے ساتھ رجسٹرڈ ہو۔

نمبر پانچ : درخواست گزار کی عمر 21 سے 65 سال کے درمیان ہونی چاہیے تاکہ نوجوان اور تجربہ کار دونوں کسان اس پروگرام سے فائدہ اٹھا سکیں۔

نمبر چھ : ہر درخواست گزار کے پاس درست قومی شناختی کارڈ اور اسی کے نام پر رجسٹرڈ موبائل نمبر ہونا ضروری ہے۔

نمبر سات : کریڈٹ اسیسمنٹ یا مالی حیثیت کا جائزہ اطمینان بخش ہونا چاہیے تاکہ قرض کی واپسی ممکن ہو۔

نمبر آٹھ : ایک فرد یا ادارہ صرف ایک ہی درخواست جمع کروا سکتا ہے۔

نمبر نو : درخواست گزار کی کریڈٹ ہسٹری صاف ہونی چاہیے اور اس پر کوئی واجب الادا قرضہ نہیں ہونا چاہیے۔

نمبر دس : قرض واپس کرنے کی صلاحیت — یعنی سہ ماہی اقساط ادا کرنے کی گنجائش — بھی لازمی ہے، جس کا جائزہ بینک کرے گا۔

نمبر گیارہ : درخواست گزار کو مشین کی قیمت کا کم از کم 20 فیصد بطور ایکویٹی ایڈوانس جمع کروانے کی مالی حیثیت ہونی چاہیے۔

نمبر بارہ : ہر اہل درخواست گزار پورے پروگرام کی مدت میں صرف ایک بار سبسڈی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

نمبر تیرہ : مشین حاصل کرنے کے بعد، درخواست گزار پانچ سال تک یا 80 فیصد قرض کی ادائیگی تک اسے نہ بیچ سکے گا اور نہ کسی دوسرے کے نام منتقل کرے گا۔

نمبر چودہ : مشین حاصل کرنے والے کو استعمال اور دیکھ بھال سے متعلق تربیتی یا تعارفی نشست میں شرکت کرنا ہوگی تاکہ وہ مشین کا درست استعمال سیکھ سکے۔

نمبر پندرہ : درخواست گزار کو محکمہ زراعت اور بینک آف پنجاب کے عملے کی جانب سے وقتاً فوقتاً نگرانی اور فیلڈ وزٹ کے لیے راضی ہونا چاہیے۔

مشینری کی اقسام – ایک مکمل فہرست

پروگرام کے تحت تقریباً 12 اقسام کی جدید زرعی مشینری فراہم کی جا رہی ہے جن میں شامل ہیں:

کمبائن ہارویسٹر

رائس پلانٹر

بیلر

سیڈ ڈرل

اسپریئر مشین

ویٹ سٹرابیلر

لینڈ لیولر

نرسری مشین

واٹر سپرنکلر سسٹم

آلو اور مکئی کی کاشت کے لیے پلانٹر مشینیں

یہ تمام مشینیں مقامی اور درآمد شدہ دونوں اقسام میں دستیاب ہیں، تاکہ کسان اپنی زمین، فصل اور ضرورت کے لحاظ سے موزوں انتخاب کر سکیں۔

ہائی ٹیک ایگریکلچرل مشینری پروگرام کےلئے درخواست دینے کا طریقہ کار

درخواست دینا نہایت آسان ہے۔ حکومتِ پنجاب نے ایک خصوصی پورٹل تیار کیا ہے:
🔗 https://cmhightech.punjab.gov.pk

کسان یا کاروباری شخص آن لائن فارم پُر کر کے اپنی معلومات درج کرتا ہے۔ فارم کے ساتھ شناختی کارڈ، زمین کی ملکیت کے ثبوت، NTN (اگر کاروباری ہے)، اور ابتدائی فیس 5000 روپے جمع کروانی ہوتی ہے۔

درخواست جمع ہونے کے بعد محکمہ زراعت اور بینک آف پنجاب جانچ کرتے ہیں۔ اگر سب درست ہو تو درخواست منظور کر لی جاتی ہے اور قرض کی رقم جاری کر دی جاتی ہے۔

ہائی ٹیک ایگریکلچرل مشینری پروگرام کسانوں کے لیے فوائد

یہ پروگرام صرف ایک مالی مدد نہیں بلکہ ایک مکمل معاشی پالیسی ہے۔

زمین کم وقت میں تیار ہوتی ہے

پیداوار میں 30 سے 40 فیصد اضافہ ممکن ہے

مزدوری کے اخراجات کم ہوتے ہیں

وقت اور پانی دونوں کی بچت ہوتی ہے

جدید مشینوں کے استعمال سے مٹی کی زرخیزی برقرار رہتی ہے

خواتین اور نوجوان کسانوں کے لیے بھی کام آسان ہو جاتا ہے

یہ تمام عوامل مجموعی طور پر پنجاب کی معیشت کو مضبوط کرتے ہیں۔ جب کسان خوشحال ہوگا تو پورا ملک ترقی

ہائی ٹیک ایگریکلچرل مشینری پروگرام 2025

ہائی ٹیک ایگریکلچرل مشینری پروگرام دراصل ایک نئی زرعی انقلاب کی شروعات ہے۔ جب کسان کو جدید سہولتیں، بلاسود قرض، اور تربیت ملے گی تو وہ اپنی زمین سے زیادہ پیداوار لے سکے گا۔ اس پروگرام نے زراعت کو محض پیشہ نہیں بلکہ ایک پائیدار کاروبار میں بدلنے کی راہ ہموار کی ہے۔

اگر آپ بھی پنجاب کے کسان ہیں، یا زراعت سے وابستہ کوئی کاروبار رکھتے ہیں، تو یہ وقت ہے قدم بڑھانے کا۔ اپنی درخواست وقت پر جمع کرائیں اور جدید مشینری کے اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں