گورنمنٹ کی چھ بڑی قرضہ سکیم اور اپلائی کرنے کا طریقہ
پاکستان میں مہنگائی، بے روزگاری اور محدود معاشی مواقع کے باعث عام آدمی کے لیے اپنا کاروبار شروع کرنا، گھر بنانا یا زراعت اور لائیو اسٹاک میں سرمایہ لگانا آسان کام نہیں رہا۔ ایسے حالات میں حکومتِ پاکستان اور صوبائی حکومتیں وقتاً فوقتاً مختلف مالی معاونتی پروگرام اور قرضہ اسکیمیں شروع کرتی رہی ہیں تاکہ عام شہریوں کو سہارا دیا جا سکے اور انہیں باعزت روزگار کے مواقع فراہم ہوں۔
اسی سلسلے میں حکومت نے چھ بڑی قرضہ اسکیمیں متعارف کروائی ہیں جو کاروبار، رہائش، زراعت اور لائیو اسٹاک سمیت مختلف شعبوں کا احاطہ کرتی ہیں۔ ہر اسکیم اپنی نوعیت کے اعتبار سے خاص ہے اور مختلف طبقات کی ضروریات کو پورا کرتی ہے۔
اس مضمون میں ہم ان چھوں اسکیموں کی مکمل، آسان تفصیلات آپ کو بتائی جائے گی تاکہ آپ بہتر طریقے سے فیصلہ کر سکیں کہ کون سی اسکیم آپ کے لیے موزوں ہے۔ ہر اسکیم کے مقاصد، اہلیت، شرائط، قرض کی حد، مارک اپ، درخواست کا طریقہ
نمبر ایک : پنجاب روزگار اسکیم
پنجاب حکومت نے 2020 میں پنجاب روزگار اسکیم کا آغاز کیا تھا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد صوبے میں روزگار کے مواقع بڑھانا اور چھوٹے کاروباروں کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ اسکیم واقعی اُن نوجوانوں کے لیے نعمت ہے جو چھوٹا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں لیکن سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یہ اسکیم ابھی بھی جاری ہے آپ آن لائن اپلائی کر سکتے ہیں
پنجاب روزگار سکیم کا مقصد
بے روزگاری میں کمی لانا
نئے کاروباروں کو سہارا دینا
ماحول دوست اور گرین ٹیکنالوجی کو فروغ دینا
نوجوانوں میں خود روزگار کا رجحان پیدا کرنا
پنجاب روزگار اسکیم کےلئے اہلیت کا معیار
نمبر ایک : عمر 20 سے 50 سال
نمبر دو : مرد، خواتین اور ٹرانسجینڈر سب اہل
نمبر تین : پنجاب کا مستقل رہائشی
نمبر چار : تعلیم یا ہنرمندی ضروری
نمبر پانچ : نیا یا پرانا کاروبار دونوں قابلِ قبول
پنجاب روزگار سکیم کی قرض کی حد
پنجاب روزگار سکیم کے تحت دو کیٹگری متعارف کروائی گئی ہیں
نمبر ایک : کلین لون (بغیر ضمانت): 1 لاکھ سے 10 لاکھ تک
نمبر دو : سیکیورڈ لون: 10 لاکھ سے 1 کروڑ تک
سود کتنا ادا کرنا ہے ؟
پہلی کیٹگری : بغیر ضمانت قرض پر چار فیصد
دوسری کیٹگری : سیکیورڈ قرض پر پانچ فیصد
باقی مارک اپ حکومت ادا کرئے گی
قرض کی ادائیگی 2 سے 5 سال میں کرنا ہو گی
6 ماہ
رعایتی مدت ہے قرضہ لینے کے بعد چھ ماہ تک کوئی قسط ادا نہیں کرنی
خواتین، ٹرانسجینڈر اور معذور افراد کے لیے خصوصی سہولت دی گئی ہے کم ایکویٹی اور بہتر شرح سود قرض لے سکتے ہیں
یہ اسکیم آج بھی ہزاروں نوجوانوں کا مستقبل بدل رہی ہے۔
پنجاب روزگار اسکیم کےلئے اپلائی کرنے کا طریقہ
پنجاب روزگار سکیم کی آفیشل ویب سائٹ پر جائیں اور آن لائن فارم پر کر کے جمع کروایں
نمبر دو : حکومت پاکستان میرا گھر میرا آشیانہ اسکیم
پاکستان میں عام شہری کے لیے اپنی چھت ہونا ہمیشہ سے ایک خواب رہا ہے۔ مہنگے گھروں اور بڑھتی ہوئی قیمتوں نے گھر خریدنا تقریباً ناممکن بنا دیا تھا۔ ایسے میں حکومت نے “میرا گھر میرا آشیانہ اسکیم 2026” کے نام سے ایک زبردست پروگرام شروع کیا ہے۔
اس سکیم کا مقصد
پہلی بار گھر خریدنے والوں کو آسان قرض کی سہولت دینا
کم شرحِ سود پر رہائشی فنانسنگ فراہم کرنا
عوام کا اپنا گھر حاصل کرنے کا خواب پورا کرنا
گھر یا اپارٹمنٹ کا سائز کتنا ہونا چاہے ؟
گھر: زیادہ سے زیادہ 5 مرلہ تک کا ہو تب قرض ملے گا
اپارٹمنٹ: زیادہ سے زیادہ 1360 سکیر فٹ تک ہو
قرض کی حد
پہلی کیٹگری کے تحت بیس لاکھ تک قرضہ ملے گا
اس پر پانچ فیصد تک سود ادا کرنا ہو گا
دوسری کیٹگری کے تحت 35 لاکھ تک قرضہ ملے گا
اس پر آٹھ فیصد تک سود ادا کرنا ہو گا
باقی سبسڈی حکومت دے گی۔
جتنا آپ کا قرضہ منظور ہو گا اس کی نوے فیصد رقم بنک ادا کرئے گا اور دس فیصد رقم امیدوار خود ادا کرئے گا ایکویٹی کی صورت میں ۔
قرض کی مدت
امیدوار بیس سال میں قرضہ واپس کرئے گا
فیس
کوئی پروسیسنگ فیس نہیں دینی اور نہ ہی
قبل از وقت ادائیگی پر کوئی جرمانہ نہیں
یہ پاکستان کی ہاؤسنگ تاریخ کی بہترین سبسڈی اسکیموں میں سے ایک ہے، خاص طور پر متوسط اور کم آمدنی والے شہریوں کے لیے۔
جو امیدوار اپلائی کرنا چاہتے ہیں وہ کسی بھی کمرشل بنک یا اسلامک بنک یا مائکروفنانس بنک میں جا کر درخواست فارم پر کر کے جمع کرویں
نمبر تین : وزیرِاعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم
یہ اسکیم پاکستانی نوجوانوں کے لیے ترقی کا دروازہ کھولتی ہے۔ چاہے آپ بزنس شروع کرنا چاہیں، ٹیکنالوجی میں قدم رکھنا ہو یا زراعت میں سرمایہ کاری، یہ پروگرام ہر شعبے کا احاطہ کرتا ہے۔
اہلیت کا معیار
نمبر ایک : تمام پاکستانی شہری مرد اور خواتین اپلائی کر سکتے ہیں
نمبر دو : عمر عام کاروبار کے لیے 21–45 سال ہو
نمبر تین : آئی ٹی/ای کامرس کے لیے 18 سال ہو
نمبر چار : سرکاری ملازمین اہل نہیں
نمبر پانچ : آورسیز پاکستانی بھی اس سکیم کےلئے نا اہل ہیں
تین قرض کیٹگریز
پہلی کیٹگری کے تحت پانچ لاکھ تک
بلکل سود کے بغیر قرضہ ملے گا
دوسری کیٹگری کے تحت پانچ لاکھ سے پندرہ لاکھ تک قرضہ ملے گا
اس پر فکس پانچ فیصد تک سود ادا کرنا ہو گا
تیسری کیٹگری کے تحت پندرہ لاکھ سے 75 لاکھ تک قرض لے سکتے ہیں
اس پر فیکس سات فیصد تک سود ادا کرنا ہو گا
قرض کی اقسام
کاروباری سرمایہ
لمبے عرصے کے قرضے
زرعی قرضے
گاڑی یا مشینری لیز پر
درخواست کا طریقہ
سب سے پہلے پرائم منسٹر لون سکیم کی آفیشل ویب سائٹ پر جائیں اور آن لائن فا رم پر کر کے جمع کروایں
نمبر چار : اپنی چھت اپنا گھر پروگرام — پنجاب کے شہریوں کے لیے کم لاگت ہاسنگ سکیم
پنجاب حکومت کی جانب سے صوبہ پنجاب میں کم آمدنی والے مرد اور خواتین کےلئے اس سکیم کا آغاز کیا گیا ہے ایسے تمام لوگ جن کے پاس ذاتی زمین موجود ہے لیکن گھر بنانے کے پیسے نہیں ہیں ان کےلئے یہ بہترین قرضہ سکیم ہے حکومت پنجاب ہر سال ستر ہزار لوگوں کو گھر بنانے کےلئے قرضہ فراہم کرئے گی
اسکیم کے تین ماڈلز بنائے گے ہیں
ماڈل نمبر ایک : 10 ہزار گھر حکومتی زمین پر بنائے جائیں گے
ماڈل نمبر دو : بیس ہزار گھر نجی شعبے کے ساتھ بنائے جائیں گے
ماڈل نمبر تین : 70 ہزار قرض دار یونٹس ۔ حکومت پنجاب سے قرضہ لے کر اپنا ذاتی گھر بنا سکتے ہیں
اہلیت کا معیار
نمبر ایک : امیدوار شہری علاقے میں پانچ مرلہ پلاٹ کا مالک ہو
نمبر دو : امیدوار دیہی علاقے میں 10 مرلہ زمین کا مالک ہو
نمبر تین : امیدوار کا نام ڈیفالٹر لسٹ میں نہ ہو
نمبر چار : امیدوار اینٹی سٹیٹ ایکٹیوسٹ نہ ہو
قرض کی مدت
امیدوار 5 سے 7 سال میں قرضہ واپس کرنے کا پابند ہو گا
اس سکیم کے فوائد
کم قیمت گھر
کم ماہانہ اقساط
کرایے سے نجات
تعمیرات سے روزگار کے مواقع
یہ پروگرام پنجاب میں رہائشی بحران کم کرنے کی جانب بڑا قدم ہے۔
اپلائی کرنے کا طریقہ
صوبہ پنجاب کے رہائشی جو اہلیت پر پورا اترتے ہیں وہ گھر بیٹھے اپنی چھت اپنا گھر سکیم کی آفیشل ویب سائٹ پر جا کر آن لائن فارم پر کر کے جمع کروا سکتے ہیں
نمبر پانچ : وزیراعلیٰ پنجاب آسان کاروبار فنانس اسکیم — بلاسود قرض کاروباری افراد کے لیے
اگر آپ کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں یا موجودہ کاروبار کو بڑھانا چاہتے ہیں تو یہ اسکیم آپ کے لیے ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ سکیم بلکل سود کے بغیر ہے
اہم خصوصیات
پہلی کیٹگری کے تحت دس لاکھ سے پچاس لاکھ تک قرضہ لے سکتے ہیں
یہ قرضہ ذاتی ضمانت پر ملے گا اور پانچ ہزار پراسیسنگ فیس ادا کرنا ہو گی
دوسری کیٹگری کے تحت ساٹھ لاکھ سے تین کروڑ تک قرضہ ملے گا
اس پر پانچ ہزار پراسیسنگ فیس ادا کرنا ہو گی
امیدوار سارا قرضہ پانچ سال میں واپس کرنے کا پابند ہو گا
نئے کاروبار کے لیے 6 ماہ رعایتی مدت دی جائے گی اور پرانے کاروبار کےلئے تین ماہ کی رعایتی مدت دی جائے گی
وزیراعلیٰ پنجاب آسان کاروبار فنانس اسکیم کےلئے اہلیت کا معیار
نمبر ایک : امیدوار پنجاب کا رہائشی ہو
نمبر دو : امیدوار کی عمر 25 سے 55 سال تک ہو
نمبر تین : امیدوا ر این ٹی این اور ٹیکس ریٹرن کی تفصیل جمع کروائے گا
نمبر چار : امیدوار کا کاروبار اگر اپنی زمین پر ہے یا کرائے کی زمین پر ہے تو رینٹ ایگریمنٹ یا ذاتی زمین کی فرد لازمی چاہے ہو گی
خواتین، معذور افراد اور ٹرانسجینڈر افراد کو خصوصی سہولت دی جائے گی
اپلائی کرنے کا طریقہ
وزیراعلیٰ پنجاب آسان کاروبار فنانس اسکیم کی آفیشل ویب سائٹ پر جائیں اور اکاونٹ بنائیں اور آن لائن فارم پر کر کے جمع کروایں
نمبر چھ : وزیراعلیٰ پنجاب لائیو اسٹاک کارڈ اسکیم
نمبر چھ : وزیراعلیٰ پنجاب لائیو اسٹاک کارڈ اسکیم
یہ اسکیم خصوصی طور پر مویشی پال کسانوں کے لیے بنائی گئی ہے۔ حکومت پنجاب پچیس سبسڈی کے ساتھ بلاسود قرض فراہم کر رہی ہے۔
قرض کی رقم
ایک لاکھ 35 ہزار
دو لاکھ 70 ہزار
پانچ لاکھ 40 ہزار تک
اس سکیم کے فوائد
مویشی پال حضرات جدید طریقوں کا استعمال کر سکیں گے
دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ
دیہی معیشت مضبوط ہوگی
رجسٹریشن کا طریقہ
شناختی کارڈ نمبر لکھ کر 9211 پر میسج سینڈ کریں
یا
فارم بھر کر دستاویزات کے ساتھ جمع کروائیں
کارڈ جاری ہونے کے بعد سبسڈی اور قرضے کی سہولت ملے گی
یہ اسکیم کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے بے حد مفید ہے۔
کون سی اسکیم آپ کے لیے بہترین ہے؟
پاکستان میں پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں حکومت نے مختلف طبقات کے لیے علیحدہ علیحدہ قرضہ اسکیمیں متعارف کروائی ہیں۔
اگر آپ:
کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں → پنجاب روزگار اسکیم، آسان کاروبار اسکیم یا پرائم منسٹر لون سکیم بہترین انتخاب ہیں۔
اور اگر آپ
گھر لینا چاہتے ہیں → میرا گھر میرا آشیانہ یا اپنی چھت اپنا گھر پروگرام مناسب ہیں۔
اور اگر آپ
زراعت یا لائیو اسٹاک میں ہیں → وزیرِاعظم یوتھ ایگریکلچر لون اور لائیو اسٹاک کارڈ اسکیم سب سے بہتر ہیں۔
ان اسکیموں کا اصل فائدہ تب ہی مل سکتا ہے جب آپ مکمل معلومات کے ساتھ، درست دستاویزات تیار کر کے درخواست جمع کروائیں۔
یہ تمام پروگرام پاکستانی عوام کے لیے امید کی کرن ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی اور بے روزگاری نے زندگی مشکل بنا دی ہے۔ اگر صحیح طریقے سے فائدہ اٹھایا جائے تو یہ اسکیمیں نہ صرف فرد کی زندگی بدل سکتی ہیں بلکہ پورے معاشرے کی معیشت مضبوط کر سکتی ہیں۔