وزیراعلیٰ پنجاب ٹرانسپلانٹ پروگرام 2025 مکمل تفصیلات

chief minister punjab transplant program

زندگی اللہ تعالیٰ کی سب سے قیمتی نعمت ہے، مگر بعض اوقات انسان ایسی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے جن سے بچنے کا واحد راستہ اعضاء کی پیوند کاری رہ جاتا ہے۔ جگر، گردے، بون میرو یا آنکھ کا کارنیا ۔ یہ وہ اعضاء ہیں جن کی خرابی اکثر مریض کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔ ان پیچیدہ آپریشنز کا خرچ لاکھوں روپے ہوتا ہے جو ایک عام گھرانے کے لیے ممکن نہیں۔
اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتِ پنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب ٹرانسپلانٹ پروگرام شروع کیا — ایک ایسا منصوبہ جو غریب اور نادار مریضوں کے لیے نئی زندگی کا پیغام ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب ٹرانسپلانٹ پروگرام کا پس منظر اور مقصد

اس پروگرام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ:

“کسی شہری کی جان صرف اس وجہ سے ضائع نہ ہو کہ وہ علاج کا خرچ برداشت نہیں کر سکتا۔”

یہ پروگرام صحت کے شعبے میں ایک انقلابی قدم ہے جس کے تحت وہ تمام مریض، جو اعضاء کی پیوند کاری کے متحمل نہیں، اب یہ علاج مکمل طور پر مفت کروا سکتے ہیں۔
حکومتِ پنجاب کے اس اقدام نے ہزاروں خاندانوں کو امید دی ہے جو مایوسی کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے تھے۔

وزیراعلیٰ پنجاب ٹرانسپلانٹ پروگرام کے تحت دستیاب سہولیات کی مکمل تفصیل

اس منصوبے کے ذریعے پنجاب کے مختلف اسپتالوں میں جدید سہولیات اور ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں درج ذیل اقسام کی پیوند کاریاں کی جاتی ہیں:

نمبر ایک : گردے کی پیوند کاری

گردے کی ناکامی پاکستان میں تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔ ایسے مریض جو ڈائیلائسز پر ہیں یا جن کے گردے مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں، ان کے لیے یہ پروگرام ایک نجات دہندہ ثابت ہو رہا ہے۔
پیوند کاری، ٹیسٹ، دوائیں اور بعد از علاج دیکھ بھال — سب کچھ حکومتِ پنجاب کے خرچ پر ہوتا ہے۔
یہ سرجریاں لاہور، ملتان، راولپنڈی اور دیگر شہروں کے منظور شدہ اسپتالوں میں عالمی معیار کے آلات کے ذریعے کی جاتی ہیں۔

نمبر دو : جگر کی پیوند کاری

ہیپاٹائٹس، سرروسس اور جگر کی دیگر خطرناک بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے جگر کی پیوند کاری زندگی کا نیا موقع ہے۔
اس پروگرام کے تحت جگر کے عطیہ کنندہ اور مریض دونوں کا مکمل میڈیکل ٹیسٹ، آپریشن اور علاج بالکل مفت کیا جاتا ہے۔
پنجاب کے معروف اسپتالوں میں ماہر سرجنز جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ یہ آپریشن انجام دیتے ہیں۔

نمبر تین : بون میرو ٹرانسپلانٹ

کینسر، تھیلیسیمیا یا خون کی دیگر بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے بون میرو ٹرانسپلانٹ سب سے مہنگا علاج سمجھا جاتا ہے۔
مگر وزیراعلیٰ ٹرانسپلانٹ پروگرام نے اسے عام شہریوں کے لیے ممکن بنا دیا ہے۔
لاہور اور راولپنڈی کے اسپتالوں میں یہ سہولت نہ صرف بچوں بلکہ بڑوں کے لیے بھی دستیاب ہے۔

نمبر چار : کارنیا ٹرانسپلانٹ

بینائی سے محروم افراد کے لیے کارنیا ٹرانسپلانٹ امید کی نئی کرن ہے۔
پاکستان اور بیرونِ ملک سے حاصل کردہ کارنیا مستحق مریضوں کو لگایا جاتا ہے تاکہ وہ دوبارہ دیکھنے کے قابل ہو سکیں۔
اس عمل میں تجربہ کار ماہرِ چشم ڈاکٹرز حصہ لیتے ہیں، اور تمام اخراجات حکومت برداشت کرتی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب ٹرانسپلانٹ پروگرام کے لئے اہلیت کا معیار

نمبر ایک : مریض کا شناختی کارڈ یا ب فارم ہونا لازمی ہے۔

نمبر دو : مریض پنجاب کا مستقل رہائشی ہو۔

نمبر تین : اسپتال کے ماہر ڈاکٹر کی جانب سے بیماری کی تصدیق درکار ہے۔

نمبر چار : مریض کے مالی حالات کا جائزہ لے کر ہی منظوری دی جاتی ہے تاکہ حقیقی مستحق افراد کو ترجیح ملے۔

وزیراعلیٰ پنجاب ٹرانسپلانٹ پروگرام کے لئے رجسٹریشن کا طریقہ کار

نمبر ایک : قریبی سرکاری اسپتال سے رجوع کریں
وہاں جہاں ٹرانسپلانٹ کے متعلقہ وارڈ یا یونٹ موجود ہو۔

نمبر دو : درخواست جمع کروائیںمریض کی میڈیکل رپورٹ، شناختی کارڈ اور ڈاکٹر کی سفارش جمع کرائیں۔

نمبر تین : پنجاب ہیلتھ انیشیٹو مینجمنٹ کمپنی کو ریفر کیا جائے گا
اسپتال مریض کی تفصیلات پنجاب ہیلتھ انیشی ایٹو مینجمنٹ کمپنی کو بھیجتا ہے۔

نمبر چار : کیس کی جانچ اور منظوری
پنجاب ہیلتھ انیشیٹو مینجمنٹ کمپنی مریض کی حالت، مالی حیثیت اور دستاویزات کی تصدیق کے بعد علاج کی منظوری دیتی ہے۔

نمبر پانچ : کارڈ کا اجرا
اہل مریض کو وزیراعلیٰ ٹرانسپلانٹ کارڈ جاری کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے علاج بالکل مفت ہوتا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب ٹرانسپلانٹ کارڈ کی خصوصیات

یہ کارڈ مریض کے لیے ایک شناختی ثبوت کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس پر درج معلومات میں شامل ہیں:

نمبر ایک : مریض کا نام

نمبر دو : والد یا سرپرست کا نام

نمبر تین : شناختی کارڈ یا ب فارم نمبر

نمبر چار : منظوری کی تاریخ

نمبر پانچ : پروگرام کی تصدیق اور حکومت پنجاب کا لوگو

یہ کارڈ صرف مخصوص مریض کے لیے کارآمد ہوتا ہے اور کسی دوسرے شخص کو منتقل نہیں کیا جا سکتا۔

وزیراعلیٰ پنجاب ٹرانسپلانٹ کارڈ پر علاج کہاں دستیاب ہے؟

یہ پروگرام پنجاب کے کئی بڑے اور معروف اسپتالوں میں فعال ہے، جن میں شامل ہیں:

شیخ زاید اسپتال، لاہور

جناح اسپتال، لاہور

چلڈرن اسپتال، لاہور

نشتر اسپتال، ملتان

راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی

بہاول وکٹوریہ اسپتال، بہاولپور

یہ تمام مراکز پنجاب ہیلتھ انیشی ایٹو مینجمنٹ کمپنی کے تحت منظور شدہ ہیں اور جدید ترین طبی سہولیات سے آراستہ

وزیراعلیٰ پنجاب ٹرانسپلانٹ پروگرام کے نمایاں فوائد

مکمل مفت علاج
پیوند کاری، دوائیں، ٹیسٹ، اور بعد از علاج نگہداشت پر مریض کو کوئی خرچ نہیں اٹھانا پڑتا۔

جدید اور عالمی معیار کا نظام
ماہر سرجنز، جدید آلات اور تربیت یافتہ نرسنگ اسٹاف اس پروگرام کا حصہ ہیں۔

شفافیت اور منصفانہ عمل
ہر کیس کی منظوری مکمل جانچ کے بعد ہوتی ہے تاکہ صرف مستحق مریضوں کو سہولت ملے۔

عوامی خدمت کا حقیقی جذبہ
یہ منصوبہ ان غریب شہریوں کے لیے امید کا پیغام ہے جو پہلے علاج کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔

صحت مند معاشرہ
اب ہزاروں مریض ٹرانسپلانٹ کے بعد نئی زندگی گزار رہے ہیں اور اپنے خاندانوں کا سہارا بن چکے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب ٹرانسپلانٹ پروگرام رابطہ نمبر

ٹال فری ہلپ لائن نمبر
0800-09009
موبائل :
0333-6765390
لائن نمبر
042-99066010 / 042-99066011

پنجاب ہیلتھ انیشی ایٹو مینجمنٹ کمپنی
یہی ادارہ اس پروگرام کی فنڈنگ اور نگرانی کا ذمہ دار ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب ٹرانسپلانٹ پروگرام عوام کے نام پیغام

اگر آپ کے آس پاس کوئی شخص جگر، گردے یا بون میرو کے مرض میں مبتلا ہے، تو علاج میں دیر نہ کریں۔
اب حکومتِ پنجاب کے اس پروگرام کی بدولت مالی پریشانی علاج میں رکاوٹ نہیں رہی۔
یہ منصوبہ ثابت کر رہا ہے کہ خدمتِ خلق محض دعووں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ہوتی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب ٹرانسپلانٹ پروگرام انسانیت کی خدمت کا روشن نمونہ ہے۔
ہزاروں ایسے مریض جو کبھی زندگی سے ناامید ہو چکے تھے، آج اس پروگرام کے ذریعے نئی زندگی پا رہے ہیں۔
یہ منصوبہ نہ صرف علاج فراہم کر رہا ہے بلکہ عوام کو یہ یقین بھی دلا رہا ہے کہ ان کی حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے — ہر ضرورت کے وقت، ہر سانس کے ساتھ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں