قومی صحت کارڈ بنوانے اور استعمال کا مکمل طریقہ

Sehat card Pakistan

پاکستان میں جب کسی گھر کا فرد بیمار ہوتا ہے تو صرف وہ شخص نہیں بلکہ پورا گھر پریشانی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ علاج کے اخراجات، اسپتالوں کے چکر، دوائیوں کی قیمتیں اور ڈاکٹروں کی فیسیں… یہ سب کچھ ایک عام آدمی کے بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں قومی صحت کارڈ نے غریب اور متوسط طبقے کے لیے ایک نئی امید پیدا کی ہے۔ یہ کارڈ دراصل حکومتِ پاکستان کی جانب سے ایک ایسا منصوبہ ہے جو شہریوں کو مفت علاج کی سہولت فراہم کرتا ہے، چاہے وہ سرکاری اسپتال میں جائیں یا کسی منظور شدہ نجی اسپتال میں۔

صحت کارڈ کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

قومی صحت کارڈ (جسے صحت سہولت پروگرام یا صحت انصاف کارڈ بھی کہا جاتا ہے) بنیادی طور پر ایک ہیلتھ انشورنس اسکیم ہے۔ اس کا مقصد ایسے خاندانوں کو مفت علاج فراہم کرنا ہے جو علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ حکومت نے ہر رجسٹرڈ خاندان کو ایک مخصوص رقم تک کا علاج بالکل مفت دینے کی سہولت رکھی ہے۔
یہ کارڈ آپ کے قومی شناختی کارڈ سے منسلک ہوتا ہے۔ یعنی اگر آپ کا شناختی کارڈ بنا ہوا ہے تو آپ کو علیحدہ صحت کارڈ رکھنے کی ضرورت نہیں۔ اسپتال کے کاؤنٹر پر صرف شناختی کارڈ دکھا کر آپ اپنی اہلیت چیک کر سکتے ہیں۔

قومی صحت کارڈ پر کتنی رقم تک علاج ممکن ہے؟

ہر خاندان کو سالانہ ایک خاص حد تک علاج کی سہولت دی جاتی ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں فی خاندان دس لاکھ روپے تک کے علاج کی سہولت دستیاب ہے۔ اس رقم میں داخلہ فیس، آپریشن، ٹیسٹ، دوائیاں اور حتیٰ کہ اسپتال میں قیام کے اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔
کینسر، دل کے امراض، ڈائیلیسس، زچگی اور دیگر سنگین بیماریوں کے علاج کے اخراجات بھی اسی پیکیج میں شامل ہیں۔

صحت کارڈ پر کن اسپتالوں میں علاج ممکن ہے؟

صحت کارڈ صرف مخصوص اسپتالوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے جنہیں حکومت نے امپینل کیا ہے۔ ان میں سرکاری اسپتالوں کے ساتھ کئی مشہور نجی اسپتال بھی شامل ہیں۔
مثلاً لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، پشاور اور دیگر بڑے شہروں کے معروف اسپتال اس اسکیم کا حصہ ہیں۔
صحت سہولت پروگرام کی ویب سائٹ پر اسپتالوں کی مکمل فہرست دستیاب ہے۔ مریض وہاں جا کر اپنا شناختی کارڈ نمبر درج کر کے قریبی اسپتال معلوم کر سکتے ہیں۔

صحت کارڈ کے فوائد

اس پروگرام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ کوئی بھی شخص مالی پریشانی کے بغیر علاج کروا سکتا ہے۔
پہلے جہاں لوگ علاج کے لیے زمین بیچنے یا قرض لینے پر مجبور ہوتے تھے، اب وہ یہی علاج بالکل مفت حاصل کر سکتے ہیں۔
خاص طور پر دل کے آپریشن، کینسر کے علاج، زچگی کے اخراجات اور حادثات کی صورت میں یہ سہولت غریب طبقے کے لیے زندگی بدل دینے والی ثابت ہوئی ہے۔

ایک اور فائدہ یہ ہے کہ صحت کارڈ کا استعمال صرف کسی ایک بیماری تک محدود نہیں۔ تقریباً تمام بڑی بیماریوں کا علاج اس کے ذریعے ممکن ہے۔ اس کے علاوہ اسپتال میں داخل ہونے، دوائیاں لینے اور حتیٰ کہ ڈسچارج کے بعد کچھ دنوں کے لیے ضروری ادویات بھی پروگرام کے تحت فراہم کی جاتی ہیں۔

صحت کارڈ کیسے چیک کریں؟

اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کا خاندان اس پروگرام میں شامل ہے یا نہیں تو طریقہ بہت آسان ہے:
اپنا شناختی کارڈ نمبر لکھ کر
8500

پر میسج سینڈ کریں۔
چند لمحوں میں آپ کو جواب مل جائے گا کہ آپ اہل ہیں یا نہیں۔
اگر آپ کا نام درج ہے تو آپ کسی بھی قریبی پینل شدہ اسپتال جا کر علاج حاصل کر سکتے ہیں۔

صحت کارڈ کی کامیابیاں

صحت سہولت پروگرام اب تک لاکھوں پاکستانی خاندانوں کو فائدہ پہنچا چکا ہے۔
خیبر پختونخوا میں اس پروگرام کے تحت تقریباً 27 لاکھ سے زیادہ افراد کو مفت علاج فراہم کیا گیا ہے، جس پر 70 ارب روپے سے زائد خرچ ہو چکے ہیں۔
دل کے مریضوں، کینسر کے علاج، اور زچگی کے کیسز میں سب سے زیادہ استعمال ہوا۔
پنجاب میں بھی لاکھوں خاندانوں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں اسپتال کم ہیں، یہ پروگرام ایک نعمت ثابت ہوا ہے۔

چیلنجز اور مسائل

اگرچہ یہ منصوبہ ایک بڑی کامیابی ہے، لیکن کچھ مشکلات بھی سامنے آئی ہیں۔
کئی نجی اسپتالوں نے سہولت کے غلط استعمال کی کوشش کی۔ کچھ نے غیر ضروری آپریشن کیے یا جعلی دعوے جمع کروائے تاکہ زیادہ پیسے حاصل کیے جا سکیں۔
اس کے علاوہ بعض اضلاع میں اسپتالوں کی کمی کے باعث مریضوں کو لمبا سفر طے کر کے دوسرے شہروں میں جانا پڑتا ہے۔
کچھ لوگوں کو یہ شکایت بھی ہے کہ اسپتالوں میں عملہ ان سے بدتمیزی کرتا ہے یا ان کے کیسز تاخیر کا شکار ہوتے ہیں۔

حکومت کے اقدامات

ان مسائل سے نمٹنے کے لیے حکومت نے کئی نئے اقدامات کیے ہیں۔
اب صرف وہی اسپتال پروگرام کا حصہ بن سکتے ہیں جن کے پاس باقاعدہ ریگولر لائسنس ہو۔
اسی طرح نجی اسپتالوں میں کچھ علاج پر کو پے منٹ یعنی جزوی رقم مریض کو خود ادا کرنی پڑتی ہے تاکہ غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
کینسر، ڈائیلیسس، یا زندگی بچانے والے علاج اس شرط سے مستثنیٰ ہیں۔

حکومت نے ایک فیڈبیک سسٹم بھی متعارف کروایا ہے۔ علاج کے بعد مریض کو کال کر کے پوچھا جاتا ہے کہ اسپتال کا رویہ کیسا تھا، دوائیاں ملیں یا نہیں، اور کوئی شکایت تو نہیں۔
یہ طریقہ شفافیت بڑھانے اور اسپتالوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔

آگاہی کی کمی

ایک بڑا مسئلہ عوام میں آگاہی کی کمی ہے۔
کئی لوگ یہ جانتے ہی نہیں کہ وہ اس پروگرام کے اہل ہیں۔
اکثر دیہی علاقوں میں لوگ صرف اسی وقت صحت کارڈ کے بارے میں سنتے ہیں جب کسی رشتہ دار کو اسپتال لے جانا پڑتا ہے۔
اگر حکومت، میڈیا اور مقامی ادارے مل کر آگاہی مہم چلائیں تو لاکھوں مزید لوگ اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

عوامی تاثرات

ایک عام مزدور سے جب پوچھا گیا کہ صحت کارڈ نے اس کی زندگی پر کیا اثر ڈالا، تو اس نے کہا:

“پہلے میرے بیٹے کا دل کا آپریشن کرانا ناممکن لگتا تھا، لیکن صحت کارڈ کی وجہ سے وہ زندہ ہے۔ اب ہمیں کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑا۔”

ایسی بے شمار کہانیاں ہیں جنہوں نے اس پروگرام کو عوام کے دلوں میں مقبول بنا دیا ہے۔
خاص طور پر خواتین کے لیے زچگی اور امراضِ نسواں کی مفت سہولتوں نے دیہی خاندانوں کی زندگی آسان بنائی ہے۔

مستقبل کی سمت

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر صحت سہولت پروگرام میں مزید بہتری لائی جائے تو یہ نہ صرف عوام کے لیے فائدہ مند ہوگا بلکہ پورے ہیلتھ سسٹم کو مضبوط بنائے گا۔
حکومت کو چاہیے کہ اسپتالوں کی تعداد بڑھائے، ڈاکٹروں اور نرسوں کی تربیت پر توجہ دے، اور ڈیجیٹل نظام کو مزید آسان بنائے تاکہ کاغذی کارروائی میں وقت ضائع نہ ہو۔
اگر شفافیت برقرار رکھی جائے تو یہ منصوبہ پاکستان کی سماجی ترقی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

قومی صحت کارڈ پاکستان کے ان چند منصوبوں میں سے ایک ہے جو براہِ راست عوام کی زندگی پر اثر ڈالتا ہے۔
یہ صرف ایک کارڈ نہیں بلکہ ایک امید ہے — ایک ایسا وعدہ کہ غربت علاج میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔
اگر اس پروگرام کی نگرانی بہتر کی جائے، بدعنوانی پر قابو پایا جائے، اور آگاہی عام کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان میں ہر شہری کو معیاری اور مفت علاج نہ مل سکے۔

صوبہ پنجاب میں صحت کارڈ کے تحت علاج فراہم کرنے والے اسپتالوں کی لسٹ

لاہور

پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی

شیخ زید ہسپتال

جناح ہسپتال

سروسز ہسپتال

گنگا رام ہسپتال

میو ہسپتال

انمول کینسر اسپتال

شریف میڈیکل سٹی ہسپتال

اختر سعید ہسپتال

فاطمہ میموریل ہسپتال

حیات میڈیکل کمپلیکس

فاروک ہسپتال

ابنِ سینا اسپتال

الراجی ہسپتال

زینب میموریل ہسپتال

فیصل آباد

الائیڈ ہسپتال

ڈی۔ایچ۔کیو اسپتال فیصل آباد

نیشنل ہسپتال فیصل آباد

شفا انٹرنیشنل اسپتال فیصل آباد

مدینہ ٹیچنگ ہسپتال

سلمان ہسپتال فیصل آباد

ملت اسپتال فیصل آباد

سرسید میموریل اسپتال فیصل آباد

ملتان

نشتر ہسپتال

چوہدری پرویز الٰہی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی

بختاور امین اسپتال

علی جنرل ہسپتال

جنوبی پنجاب کلینک اینڈ اسپتال

رفاقت میڈیکل کمپلیکس

کبیر میڈیکل سینٹر

طیب اسپتال ملتان

راولپنڈی

ہولی فیملی ہسپتال

بے نظیر بھٹو اسپتال

ڈی۔ایچ۔کیو اسپتال راولپنڈی

راول انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی

راول جنرل ہسپتال

عرفان میڈیکل کمپلیکس

کینٹ جنرل ہسپتال

گوجرانوالہ

ڈی۔ایچ۔کیو ٹیچنگ ہسپتال

گوجرانوالہ میڈیکل کالج ہسپتال

حیات میڈیکل سینٹر

سلیمان میڈیکل کمپلیکس

اتفاق میڈیکل ہسپتال

اعظم میڈیکل ہسپتال

سٹی اسپتال گوجرانوالہ

سیالکوٹ

علامہ اقبال میموریل ٹیچنگ ہسپتال

خواجہ صفدر میڈیکل کالج ہسپتال

امام کلینک سیالکوٹ

العین ہسپتال

سیال میڈیکل کمپلیکس

رحمان میڈیکل سینٹر

بہاولپور

بہاول وکٹوریہ ہسپتال

قاسم بیس اسپتال

الخدمت اسپتال بہاولپور

فاطمہ جناح ویمن ہسپتال

صدیق میڈیکل کمپلیکس

ریاض اسپتال بہاولپور

رحیم یار خان

شیخ زید میڈیکل کالج و ہسپتال

علی رحمہ میڈیکل کمپلیکس

ملت اسپتال

طاہر جنرل ہسپتال

حسن اسپتال

لالہ میڈیکل کمپلیکس

فیصل اسپتال

حمزہ میڈیکیئر اسپتال

سعد عبداللہ سرجیکل ہسپتال

خانیوال

نورین نشات ہسپتال

سید میڈیکیئر

سیمین زفر میڈیکل سینٹر

اقبال میموریل ہسپتال

نارووال

اکرم اسپتال

شکاردن سرجیکل ہسپتال

ظہرا سرجیکل اینڈ چلڈرن ہسپتال

ڈیرہ غازی خان

جناح سرجیکل کمپلیکس

غازی ہسپتال

ڈی۔جی۔آن آئی اینڈ جنرل ہسپتال

المدینہ اسپتال

لودھراں

شاہیدہ اسلام میڈیکل کمپلیکس

الکوثر ہسپتال

لودھراں میڈیکل سینٹر

سرگودھا

ڈی۔ایچ۔کیو ٹیچنگ ہسپتال

فاطمہ ہسپتال

اقبال میڈیکل کمپلیکس

مدینہ اسپتال سرگودھا

سٹی اسپتال

جھنگ

ضیاء میڈیکل کمپلیکس

مدینہ ٹیچنگ اسپتال

غوثیہ میڈیکل سینٹر

جمیل اسپتال جھنگ

میانوالی

ڈی۔ایچ۔کیو اسپتال میانوالی

سی ایم ایچ میانوالی

خان میڈیکل کمپلیکس

ٹوبہ ٹیک سنگھ

ٹوبہ میڈیکل سینٹر

اتفاق اسپتال ٹوبہ

الرحیم اسپتال

سٹی اسپتال ٹوبہ ٹیک سنگھ

قصور

قصور میڈیکل کمپلیکس

العزیز اسپتال

مدینہ اسپتال قصور

فرید اسپتال

اوکاڑہ

ڈی۔ایچ۔کیو اسپتال اوکاڑہ

اوکاڑہ میڈیکل کمپلیکس

سٹی ہسپتال اوکاڑہ

اتفاق اسپتال اوکاڑہ

بہاولنگر

ڈی۔ایچ۔کیو اسپتال بہاولنگر

رحمت اسپتال

الشفا اسپتال

انوار میڈیکل سینٹر

اپنا تبصرہ بھیجیں