حکومت پنجاب نے ہمت کارڈ فیز تھری کا آغاز کر دیا
پاکستان میں لاکھوں افراد ایسے ہیں جو کسی نہ کسی جسمانی معذوری کا شکار ہیں۔ ان افراد کو روزگار، تعلیم اور صحت کی سہولیات تک پہنچنے میں ہمیشہ مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت پنجاب نے ان کی زندگی کو آسان بنانے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھایا ہے جسے ہمت کارڈ پروگرام کہا جاتا ہے۔ یہ پروگرام معذور افراد کی فلاح و بہبود اور ان کی معاشی خودمختاری کے لیے شروع کیا گیا ہے۔
اب سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ پنجاب نے ہمت کارڈ فیز تھری کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت مزید ہزاروں افراد کو رجسٹرڈ کر کے مالی مدد اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
ہمت کارڈ پروگرام کی اہمیت
معاشرے کی اصل خوبصورتی اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب کمزور اور محروم طبقات کو سہارا دیا جائے۔ ہمت کارڈ اسی سوچ کا نتیجہ ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے معذور افراد کو نہ صرف مالی امداد ملتی ہے بلکہ انہیں معاشرتی طور پر مضبوط اور خود انحصار بنانے کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔
اس کارڈ کے حامل افراد کو حکومت کی طرف سے کئی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں جن میں ماہانہ وظیفہ، مفت طبی آلات، فنی تربیت، اور روزگار کے مواقع شامل ہیں۔
فیز تھری میں کیا نیا ہے؟
ہمت کارڈ فیز ون اور فیز ٹو میں ہزاروں افراد کو رجسٹر کر کے سہولتیں دی گئیں۔ اب فیز تھری کے آغاز کے ساتھ مزید مستحق افراد کو اس پروگرام میں شامل کیا جا رہا ہے۔
فیز تھری کے نمایاں پہلو یہ ہیں:
ہر مستحق معذور شخص کو 10,500 روپے فی سہ ماہی وظیفہ دیا جائے گا۔
خواتین معذور افراد کے لیے ایک خاص کوٹا رکھا گیا ہے تاکہ وہ بھی بلا رکاوٹ فائدہ اٹھا سکیں۔
حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ آئندہ مرحلوں میں اس رقم میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
ساتھ ہی معذور افراد کو تعلیم اور ہنر سکھانے کے لیے تربیتی کورسز بھی فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ مستقبل میں اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔
ہمت کارڈ کے فوائد
یہ کارڈ صرف ایک شناختی کارڈ نہیں بلکہ ایک ایسا ذریعہ ہے جو معذور افراد کے لیے زندگی کو آسان بناتا ہے۔ اس کے اہم فوائد درج ذیل ہیں:
مالی امداد
معذور افراد کو سہ ماہی بنیاد پر 10,500 روپے ملتے ہیں، جو ان کے روزمرہ اخراجات میں بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
معاون آلات کی فراہمی
حکومت کی جانب سے وہیل چیئرز، مصنوعی اعضا، سننے کے آلات اور دیگر ضروری اشیاء مفت فراہم کی جاتی ہیں۔
فنی تربیت اور روزگار
کارڈ ہولڈرز کو مختلف فنی کورسز میں شامل کیا جاتا ہے تاکہ وہ ہنر سیکھ کر روزگار کما سکیں۔
سرکاری اور نجی اداروں میں معذور افراد کے لیے خصوصی کوٹہ بھی مختص ہے۔
صحت کی سہولتیں
سرکاری ہسپتالوں میں خصوصی سہولتیں، علاج میں آسانی اور مفت دوائیاں بھی فراہم کی جاتی ہیں۔
ٹرانسپورٹ میں رعایت
کچھ شہروں میں میٹرو بس یا دیگر ٹرانسپورٹ پر معذور افراد کے لیے رعایتی کرایہ یا مفت سفر کی سہولت بھی دی گئی ہے۔
اہلیت کے معیار
ہمت کارڈ کے لیے اپلائی کرنے والے افراد کو کچھ شرائط پر پورا اترنا لازمی ہے
درخواست دہندہ پنجاب کا رہائشی ہو۔
اس کے پاس معذوری کا سرکاری سرٹیفکیٹ ہو۔
درخواست دہندہ کسی اور بڑے سرکاری امدادی پروگرام سے مالی مدد نہ لے رہا ہو۔
درخواست دہندہ کا پی ایم ٹی سکور 45 یا اس سے کم ہونا چاہیے۔
درخواست دہندہ کسی سرکاری یا نجی ادارے میں ملازم نہ ہو۔
آن لائن اپلائی کرنے کا طریقہ
فیز تھری کے تحت حکومت پنجاب نے آن لائن رجسٹریشن کا نظام متعارف کرایا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ آسانی سے فائدہ اٹھا سکیں۔
اپلائی کرنے کے مراحل:
سب سے پہلے سرکاری ویب سائٹ وزٹ کریں:
🔗 www.dpmis.punjab.gov.pk/register
رجسٹریشن فارم کو مکمل اور درست طریقے سے پُر کریں۔
شناختی کارڈ نمبر
ذاتی معلومات
معذوری کا سرٹیفکیٹ نمبر
مطلوبہ دستاویزات اپ لوڈ کریں۔
فارم جمع کرانے کے بعد آپ کو ایک ریکارڈ نمبر ملے گا۔
متعلقہ ادارہ آپ کی درخواست کی جانچ کرے گا، اور تصدیق کے بعد آپ کو ہمت کارڈ جاری کر دیا جائے گا۔
ضلعی سطح پر سہولتیں
ہمت کارڈ پروگرام پنجاب کے تمام اضلاع میں جاری کیا جا رہا ہے۔ ہر ضلع میں سوشل ویلفیئر دفاتر قائم ہیں جہاں جا کر درخواست دی جا سکتی ہے۔
مزید یہ کہ حکومت نے خصوصی کیمپ بھی لگائے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو اس پروگرام میں شامل کیا جا سکے۔
خواتین اور خصوصی توجہ
حکومت نے ہمت کارڈ میں خواتین کے لیے 30 فیصد کوٹا مختص کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ خواتین معذور افراد بھی مردوں کی طرح معاشرتی اور معاشی لحاظ سے مضبوط بن سکیں۔
شکایات اور رہنمائی کے لیے ہیلپ لائن
اگر آپ کو رجسٹریشن یا کارڈ کے اجرا میں کوئی مسئلہ درپیش ہو تو حکومت پنجاب نے ایک ہیلپ لائن فراہم کی ہے:
📞 1312
اس ہیلپ لائن پر شام 4 بجے سے رات 8 بجے تک رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
ہمت کارڈ فیز تھری حکومت پنجاب کا ایک بڑا قدم ہے جس سے نہ صرف معذور افراد کو سہارا ملے گا بلکہ وہ اپنے خاندان اور معاشرے میں ایک باعزت مقام حاصل کر سکیں گے۔ یہ پروگرام اس بات کی علامت ہے کہ حکومت اپنے کمزور اور محروم طبقات کو تنہا نہیں چھوڑ رہی۔
اگر آپ یا آپ کے کسی جاننے والے کو اس کارڈ کی ضرورت ہے تو فوراً آن لائن اپلائی کریں اور حکومت کی فراہم کردہ سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں۔