حکومت پنجاب سے ٹی کیش کارڈ بنوانے کا مکمل طریقہ
اگر آپ روزانہ میٹرو، اورنج ٹرین یا سپیڈو بس سے سفر کرتے ہیں تو آپ کو پتہ ہوگا کہ ہر بار ٹوکن یا نقد رقم نکالنا کتنا جھنجھٹ والا کام ہے۔ اب یہی مسئلہ حل کرنے کے لیے پنجاب حکومت نے ایک نیا اور جدید ٹی کیش کارڈ کا قدم اٹھایا ہے ۔
یہ صرف ایک سفر کا کارڈ نہیں بلکہ ایک مکمل ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم ہے جو روزمرہ کے سفر کو آسان، محفوظ اور تیز تر بناتا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے ویژن 2030 کے تحت شروع کیا گیا یہ منصوبہ صوبے کو جدید ٹرانسپورٹ اور ڈیجیٹل بینکنگ کے نئے دور میں لے جا رہا ہے۔
ٹی کیش کارڈ کیا ہے؟
سادہ لفظوں میں یہ ایک ریچارج ایبل اسمارٹ کارڈ ہے جو بینک آف پنجاب اور ویزا کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔ آپ اسے سفر کے کرایے ادا کرنے کے ساتھ ساتھ عام ڈیبٹ کارڈ کی طرح خریداری یا آن لائن لین دین کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
یعنی اب ایک ہی کارڈ سے آپ نہ صرف میٹرو یا اورنج ٹرین کا کرایہ دے سکتے ہیں بلکہ کسی دکان سے شاپنگ یا کسی ویب سائٹ پر ادائیگی بھی کر سکتے ہیں۔
یہ کارڈ ہر ایک کےلئے عام سے خاص کیوں ہے؟
نمبر ایک : ایک کارڈ، ہر سفر کے لیے
اب مختلف بسوں یا ٹرینوں کے لیے الگ الگ ٹکٹ خریدنے کی ضرورت نہیں۔ T-Cash کارڈ پورے پنجاب کے ٹرانسپورٹ سسٹم میں کام کرے گا۔
نمبر دو : بغیر رابطے کے ادائیگی
بس کارڈ کو ریڈر کے قریب لائیں، اور کرایہ خود بخود ادا ہو جائے گا۔ نہ کوئی سکہ، نہ کوئی نوٹ۔
نمبر تین : مکمل بینکنگ سہولت
یہ کارڈ ایک فعال ڈیبٹ کارڈ کی طرح کام کرتا ہے۔ آپ اسے کسی بھی جگہ استعمال کر سکتے ہیں جہاں ویزا کارڈ قابلِ قبول ہے۔
نمبر چار : وقت کی بچت اور سہولت
لمبی قطاروں سے نجات، نقد رقم کے جھنجھٹ سے آزادی، اور ایک کلک میں سفر مکمل۔
نمبر پانچ : جدید سیکیورٹی نظام
بینک آف پنجاب کے سسٹم کے تحت تمام لین دین محفوظ اور تصدیق شدہ رہتے ہیں، اس لیے دھوکہ دہی یا غلط کٹوتی کا خطرہ نہیں۔
کونسے لوگ ٹی کیش کارڈ کے لیے اہل ہیں ؟
پنجاب کا کوئی بھی شہری جو پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتا ہے، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ چند بنیادی شرائط یہ ہیں:
عمر کم از کم 18 سال ہو۔
قومی شناختی کارڈ درست اور نادرا سے تصدیق شدہ ہو۔
درخواست دہندہ کا موبائل نمبر نادرا ڈیٹا میں رجسٹرڈ ہو۔
کارڈ حاصل کرنے کی فیس صرف 130 روپے رکھی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔
ٹی کیش کارڈ کے لیے آن لائن درخواست دینے کا مکمل طریقہ
پنجاب حکومت نے کارڈ کے لیے درخواست دینے کا عمل مکمل طور پر آن لائن کر دیا ہے تاکہ شہریوں کو دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔
پہلا مرحلہ : ویب سائٹ کھولیں
اپنے موبائل یا کمپیوٹر یا موبائل پر یہ ویب سائٹ کھولیں
etransit.punjab.gov.pk
یہ پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی آفیشل ویب سائٹ ہے۔
دوسرا مرحلہ : رجسٹریشن شروع کریں
اپلائی فار ٹی کیش کارڈ پر کلک کریں اور فارم کھولیں۔
تیسرا مرحلہ : اپنی معلومات درج کریں
نام (جیسا کہ شناختی کارڈ پر درج ہے)
شناختی کارڈ نمبر
تاریخِ پیدائش
موبائل نمبر (نادرا سے منسلک)
ای میل ایڈریس (اختیاری مگر بہتر ہے)
چوتھا مرحلہ : پتہ اور کارڈ وصولی کا مرکز
اپنے شہر اور قریبی اسٹیشن کا انتخاب کریں جہاں سے آپ کارڈ وصول کرنا چاہیں۔ مثال کے طور پر، لاہور کے شہری شاہدرہ یا سول سیکرٹریٹ اسٹیشن منتخب کر سکتے ہیں۔
پانچواں مرحلہ : تصدیق (ویریفکیشن)
موبائل نمبر پر ایک اوٹی پی (ون ٹائم پاس ورڈ) موصول ہوگا۔ اسے درج کریں تاکہ آپ کی معلومات کی تصدیق ہو سکے۔
چھیواں مرحلہ : فیس کی ادائیگی
130 روپے کی فیس کسی بھی بینک کارڈ یا آن لائن بینکنگ کے ذریعے ادا کریں اور “اپلیکیشن سبمٹ ” پر کلک کر دیں۔
درخواست جمع ہونے کے بعد ایک ٹریکنگ نمبر یا تصدیقی ایس ایم ایس موصول ہوگا جس کے ذریعے آپ درخواست کی پیشرفت چیک کر سکتے ہیں۔
موبائل ایپ کے ذریعے درخواست دینے کا طریقہ
اگر آپ موبائل ایپ استعمال کرنا پسند کرتے ہیں تو گوگل پلے سٹور سے
“eTransit” ای ٹرانژٹ
ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔
وہی معلومات درج کریں، فیس ادا کریں اور چند منٹوں میں درخواست مکمل ہو جائے گی۔
ٹی کیش کارڈ حاصل کرنے کے بعد کے مراحل
نمبر ایک : تیاری اور اطلاع
درخواست کے بعد کارڈ کی تیاری میں چند دن لگتے ہیں۔ جیسے ہی کارڈ تیار ہو کر آپ کے منتخب اسٹیشن پر پہنچے گا، ایک SMS موصول ہوگا۔
نمبر دو : کارڈ وصول کرنا
اصل شناختی کارڈ اور ٹریکنگ نمبر کے ساتھ اسٹیشن پر جائیں۔ وہاں موجود ای ٹرانژٹ کیوسک سے کارڈ حاصل کریں۔
نمبر تین : ایکٹیویشن
کارڈ حاصل کرتے ہی اسے فعال کروائیں۔ آپ کو پن سیٹ کرنے کے لیے رہنمائی دی جائے گی تاکہ استعمال محفوظ رہے۔
نمبر چار : ری چارج یعنی بیلنس ڈالیں
کارڈ میں رقم ڈالنے کے کئی آسان طریقے ہیں
ماس ٹرانزٹ اسٹیشن پر پی ایس او مشین کے ذریعے نقد ادائیگی۔
آن لائن بینکنگ یا موبائل ایپ کے ذریعے رقم منتقل کرنا۔
ای ٹرانژٹ ایپ سے ڈائریکٹ ریچارج۔
ٹی کیش کارڈ کے حقیقی فوائد
ڈیجیٹل آزادی
اب آپ کے سفر کی ادائیگی مکمل طور پر کیش لیس ہو گئی ہے۔ ایک کارڈ، ہر بس، ہر ٹرین، ہر اسٹیشن کے لیے۔
پلاننگ میں آسانی
کارڈ ہولڈرز کا ڈیٹا حکومت کو ٹرانسپورٹ سسٹم بہتر بنانے میں مدد دے گا تاکہ بسوں اور ٹرینوں کے شیڈول شہریوں کی ضرورت کے مطابق بنائے جا سکیں۔
مالی شمولیت
یہ کارڈ ان شہریوں کے لیے بینکنگ کی پہلی سیڑھی ہے جن کے پاس روایتی بینک اکاؤنٹس نہیں ہیں۔ اب وہ بھی محفوظ مالیاتی نظام کا حصہ بن سکتے ہیں۔
مستقبل کی سمت
یہ منصوبہ مستقبل میں پورے پاکستان کے لیے ایک نیشنل ٹرانزٹ کارڈ کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ یعنی ایک کارڈ سے لاہور سے کراچی تک کا سفر ممکن ہوگا۔
چند ضروری مشورے
کارڈ وصولی کے میسج پر نظر رکھیں تاکہ مقررہ وقت میں اسٹیشن جا کر کارڈ حاصل کیا جا سکے۔
ٹی کیش کارڈ کا پن کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔
ای ٹرانژٹ ایپ انسٹال کر لیں تاکہ بیلنس، ٹرانزیکشن اور اپڈیٹس باخبر رہیں۔
ٹی کیش کارڈ صرف ایک نیا نظام نہیں بلکہ پنجاب کے عوام کے لیے جدیدیت کی علامت ہے۔
یہ ایک ایسا قدم ہے جو نہ صرف روزمرہ کے سفر کو آسان بنائے گا بلکہ صوبے کو ڈیجیٹل معیشت کی طرف لے جائے گا۔
حکومت کا مقصد یہی ہے کہ عام شہری کو سہولت، تیزرفتاری اور شفافیت فراہم کی جائے۔
اگرچہ ابتدا میں کچھ چھوٹی رکاوٹیں آسکتی ہیں جیسے کارڈ کی فراہمی میں تاخیر یا اسٹیشن پر رش، مگر وقت کے ساتھ نظام مستحکم اور مؤثر ہوتا جائے گا۔
اب وقت ہے کہ ہم سب اس تبدیلی کو قبول کریں اور “آسان سفر، سب کے لیے” کے خواب کو حقیقت بنائیں