حکومت پنجاب آغوش پروگرام سے 38000 لینے کا طریقہ
زندگی کے سفر میں سب سے نازک اور قیمتی مرحلہ ماں بننے کا ہوتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب ایک عورت کو سب سے زیادہ توجہ، دیکھ بھال اور سہارا درکار ہوتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بہت سی خواتین ایسی ہیں جو مالی تنگی، غذائی کمی اور صحت کی سہولتوں کی کمی کے باعث اس خوبصورت مرحلے کو مشکلات میں گزارتی ہیں۔
پنجاب حکومت نے اسی احساس کو سامنے رکھتے ہوئے ایک شاندار قدم اٹھایا ہے — آغوش پروگرام۔ یہ صرف ایک مالی امداد نہیں بلکہ ایک مکمل فلاحی نظام ہے جو ماں اور بچے دونوں کی صحت، حفاظت اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔
آغوش پروگرام کیا ہے؟
آغوش پروگرام پنجاب حکومت کا ایک فلاحی منصوبہ ہے جس کا مقصد حاملہ خواتین اور دو سال سے کم عمر بچوں کی ماؤں کو مالی مدد اور صحت کی سہولتیں فراہم کرنا ہے۔
یہ پروگرام پنجاب ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ کے تحت شروع کیا گیا ہے اور اس میں پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی اور محکمہ صحت کا اہم کردار ہے۔
اس منصوبے میں عالمی بینک کی معاونت بھی شامل ہے تاکہ فنڈز اور نگرانی کے معیار کو بین الاقوامی سطح پر رکھا جا سکے۔
آغوش پروگرام کا مقصد
اس منصوبے کا بنیادی مقصد صرف رقم دینا نہیں بلکہ ماں اور بچے کی صحت بہتر بنانا ہے۔
حکومت چاہتی ہے کہ ہر حاملہ خاتون کو دورانِ حمل مکمل طبی معائنہ، غذائیت، ویکسینیشن، اور بعد از پیدائش بچوں کے لیے حفاظتی ٹیکوں کی سہولت باقاعدگی سے ملے۔
آغوش پروگرام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کوئی ماں غربت یا لاعلمی کے باعث اپنی یا اپنے بچے کی صحت کو نظرانداز نہ کرے۔
آغوش پروگرام کے تحت 23,000 روپے کی مالی امداد کیسے ملے گی؟
یہ امداد مرحلہ وار دی جاتی ہے، تاکہ خواتین پورے عمل کے دوران صحت کے تمام مراحل سے گزریں۔
ہر مرحلے پر مخصوص رقم دی جاتی ہے، جس سے مجموعی طور پر 23,000 روپے کی امداد بنتی ہے۔
تفصیل درج ذیل ہے:
نمبر ایک : رجسٹریشن پر 2,000 روپے
جیسے ہی حاملہ خاتون قریبی ہیلتھ سنٹر یا بی ایچ یو (BHU) میں آغوش پروگرام کے تحت رجسٹریشن کرواتی ہے، ابتدائی رقم دی جاتی ہے۔
نمبر دو : حمل کے دوران چیک اپس پر 6,000 روپے
حمل کے دوران کم از کم چار مرتبہ طبی معائنہ لازمی ہے۔ ہر وزٹ پر 1,500 روپے دیے جاتے ہیں۔
نمبر تین : پیدائش اسپتال میں کروانے پر 4,000 روپے
محفوظ اور صاف ستھری جگہ پر ولادت کو فروغ دینے کے لیے اسپتال میں بچے کی پیدائش پر اضافی رقم دی جاتی ہے۔
نمبر چار : پیدائش کے بعد معائنہ پر 2,000 روپے
بچے کی پیدائش کے بعد پندرہ دن کے اندر ماں اور بچے دونوں کا معائنہ کروانے پر رقم ملتی ہے۔
نمبر پانچ : پیدائش کی رجسٹریشن پر 5,000 روپے
بچے کا باضابطہ اندراج NADRA یا مقامی یونین کونسل میں کروانے پر حکومت یہ رقم فراہم کرتی ہے۔
نمبر چھ : بچوں کے حفاظتی ٹیکوں پر 4,000 روپے
ٹیکوں کے دو مرحلوں میں 2,000 روپے فی مرحلہ دیے جاتے ہیں تاکہ والدین اپنے بچوں کی ویکسینیشن کو یقینی بنائیں۔
یوں آغوش پروگرام ماں اور بچے کی مکمل صحت کے سفر کو مالی طور پر سہارا دیتا ہے۔
کونسے اضلاع میں آغوش پروگرام شروع ہے ؟
ابتدائی مرحلے میں یہ پروگرام پنجاب کے 13 اضلاع میں شروع کیا گیا ہے، جن میں وہ علاقے شامل ہیں جہاں غربت اور غذائی قلت کے مسائل زیادہ ہیں۔
یہ اضلاع ہیں:
بہاولپور
مظفرگڑھ
ڈیرہ غازی خان
راجن پور
لیہ
خوشاب
بھکر
میانوالی
رحیم یار خان
کوٹ ادو
لودھراں
بہاولنگر
تونسہ شریف
وقت کے ساتھ اس پروگرام کو دیگر اضلاع تک بھی وسعت دی جائے گی۔
آغوش پروگرام میں رجسٹریشن کا طریقہ
آغوش پروگرام میں رجسٹریشن کا عمل نہایت آسان بنایا گیا ہے۔
خواتین اپنے قریبی بنیادی مراکزِ صحت یا رورل ہیلتھ سینٹر جا کر اندراج کروا سکتی ہیں۔
رجسٹریشن کے وقت شناختی کارڈ، موبائل نمبر، اور اگر پہلے سے کوئی میڈیکل ریکارڈ موجود ہو تو وہ بھی ساتھ لانا ضروری ہے۔
تمام اندراج الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ کے ذریعے کیا جاتا ہے، تاکہ معلومات محفوظ رہیں اور ادائیگیاں شفاف طریقے سے ہوں۔
مزید معلومات یا شکایات کے لیے ہیلپ لائن نمبر 1033 یا 1221 پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
کونسی خواتین کے لیے یہ پروگرام ہے؟
یہ سہولت صرف ان خواتین کے لیے ہے جو:
پنجاب کے درج بالا اضلاع میں رہتی ہیں،
حاملہ ہیں یا دو سال سے کم عمر بچے کی ماں ہیں،
اور سرکاری طبی مرکز میں رجسٹرڈ ہیں۔
مزید یہ کہ امداد صرف دو بچوں تک دی جائے گی، اور دونوں بچوں کے درمیان کم از کم تین سال کا وقفہ ہونا چاہیے۔
آغوش پروگرام کی خصوصیات
شفاف نظام: تمام ادائیگیاں بینک یا موبائل والٹ کے ذریعے ہوتی ہیں، تاکہ رشوت یا بدعنوانی کا امکان نہ رہے۔
صحت سے منسلک سہولتیں: یہ پروگرام خواتین کو صرف مالی سہارا نہیں دیتا بلکہ انہیں ڈاکٹرز سے رہنمائی، غذائی سپلیمنٹس اور مشاورت بھی فراہم کرتا ہے۔
دیہی علاقوں پر توجہ: زیادہ تر اضلاع وہ ہیں جہاں طبی سہولتیں محدود ہیں، اس لیے حکومت کا فوکس انہی علاقوں پر رکھا گیا ہے۔
عالمی معیار کی نگرانی: عالمی بینک کی شراکت داری سے پروگرام کے تمام مراحل کی مانیٹرنگ جدید ڈیجیٹل طریقوں سے کی جاتی ہے۔
آغوش پروگرام کیوں ضروری ہے؟
پاکستان میں ہر سال ہزاروں خواتین دورانِ حمل یا زچگی کے دوران مناسب سہولت نہ ملنے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوتی ہیں۔
غذائیت کی کمی، لاعلمی، اور صحت کے کمزور نظام نے کئی خاندانوں کو دکھ دیا ہے۔
آغوش پروگرام اسی خلا کو پُر کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔
یہ حکومتِ پنجاب کا عزم ہے کہ کوئی ماں اپنی غربت کے باعث صحت یا زندگی سے محروم نہ رہے۔
حکومت کی مستقبل کی منصوبہ بندی
پنجاب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ مستقبل میں آغوش پروگرام کو مزید اضلاع تک پھیلایا جائے گا۔
ساتھ ہی ڈیجیٹل رجسٹریشن پورٹل اور ایپلیکیشن سسٹم پر بھی کام جاری ہے تاکہ خواتین گھر بیٹھے اندراج کرا سکیں۔
آغوش پروگرام صرف ایک مالی امدادی اسکیم نہیں، بلکہ یہ معاشرتی تبدیلی کی علامت ہے۔
یہ اس سوچ کی نمائندگی کرتا ہے کہ ایک صحت مند ماں ہی ایک صحت مند نسل کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔
اگر اس پروگرام پر شفافیت اور تسلسل کے ساتھ عمل جاری رہا تو آنے والے برسوں میں پنجاب کی خواتین اور بچوں کی صحت میں نمایاں بہتری دیکھنے کو ملے گی۔
یہ وہ قدم ہے جو واقعی ایک محفوظ، خوشحال اور صحت مند پاکستان کی طرف بڑھتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔